ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کشمیر میں مداخلت نہیں کرے گا طالبان ۔ حقانی کے ہندوستان سے بہتر رشتہ والے بیان نے بڑھائی پاکستان کی بے چینی!

کشمیر میں مداخلت نہیں کرے گا طالبان ۔ حقانی کے ہندوستان سے بہتر رشتہ والے بیان نے بڑھائی پاکستان کی بے چینی!

Thu, 02 Sep 2021 10:28:21    S.O. News Service

کابل،2؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) طالبان کے اعلیٰ رہنماؤں میں سے ایک انس حقانی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کشمیر موضوع پر مداخلت نہیں کریں گے- ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ طالبان ہندوستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے- امریکہ کی فوج تقریباً دو دہائیوں کے بعد اپنے ملک واپسی ہوگئی ہے- اب تقریباً پورے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہے- اس نئے اسلامی اقتدار سے متعلق عالمی سطح پر چہ میگوئیاں ہیں - پرائیویٹ نیوز چینل سی این این-نیوز18 کو دیئے انٹرویو میں طالبان کے سرکردہ لیڈر انس حقانی نے حقانی نیٹورک کے پاکستان کنکشن، ہندوستان کے ساتھ ان کے روابط اور کشمیر ایشو پر بات کی- کشمیر کے ایشو پر طالبان کے لیڈر حقانی نے کہا کہ کشمیر ہمارے حلقہ اختیار کا حصہ نہیں ہے اور مداخلت پالیسی کے خلاف ہے- ہماری پالیسی کے مطابق ہم دوسرے ممالک کے معاملوں میں مداخلت نہیں کرتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ دوسرے بھی ہمارے معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے- ہم چاہتے ہیں کہ سبھی معاملوں کو خیر سگالی کے ساتھ حل کیا جائے- ہمارے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں - ہم باقی دنیا کے ساتھ اچھے رشتے بنانا چاہتے ہیں -ہندوستان کے ساتھ رشتے کو لے کر بھی طالبان لیڈر حقانی نے کہا کہ ہم اچھے رشتے چاہتے ہیں - ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ہمارے بارے میں غلط سوچے- ہندوستان نے ہمارے دشمن کی 20 سال سے مدد کی ہے، لیکن ہم سب کچھ بھول کر رشتے کو آگے بڑھانے کیلئے تیار ہیں - حقانی نے ہندوستانی میڈیا پر طالبان کے خلاف غلط تشہیر کرنے کے بھی الزام لگائے ہیں - حقانی نے کہا کہ ہم نے 20 سال تک جدوجہد کی- ہمارے بارے میں بہت ساری منفی باتیں ہو رہی ہیں اور یہ سب غلط ہے- حقانی نیٹورک کچھ بھی نہیں ہے- ہم سب کیلئے کام کر رہے ہیں - دنیا بھر میں اور خصوصاً ہندوستان میں میڈیا ہمارے بارے میں منفی تشہیر کر رہا ہے- اس سے ماحول خراب ہو رہا ہے- جنگ میں کبھی بھی کسی پاکستانی اسلحہ کا استعمال نہیں کیا گیا تھا- یہ الزام غلط اور بے بنیاد ہے-افغانستان میں مقیم ہندو اور سکھوں کو لے کر بھی حقانی نے کہا کہ یہاں ہر کوئی محفوظ ہے- کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے-

حقانی نے کہا کہ شروع میں کچھ گھبراہٹ اور خوف تھا، لیکن اب چیزیں ٹھیک ہو گئی ہیں اور لوگ خوش ہیں - افغان سکھ اور ہندو افغانستان کے کسی بھی دیگر طبقہ کی طرح ہیں اور وہ خوشی سے رہیں گے-


Share: